مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی درخواستوں کی سماعت کو جلد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی 10 اکتوبر کو سماعت کے لیے درج ہے۔ 14 اگست کو چیف جسٹس بی آر گاوی کی سربراہی میں بینچ نے مرکزی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ آٹھ ہفتوں کے اندر ایک علیحدہ درخواست پر جواب دے، جس میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ایک وکیل نے بینچ کو بتایا کہ وہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی جلد سماعت چاہتے ہیں، کیونکہ جموں و کشمیر کو ریاستی حیثیت دی جانی تھی۔ چیف جسٹس گاوی نے جواب دیا کہ یہ معاملہ پہلے ہی 10 اکتوبر کو سماعت کے لیے درج ہے۔ یوں جلد سماعت کی درخواست مسترد کردی۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اس وقت بینچ ایک آئینی معاملے کی سماعت میں مصروف ہے، جس میں گورنروں اور صدر کے لیے وقت کی حدود کے تعین سے متعلق صدر کی ریفرنس زیر غور ہے۔
یاد رہے کہ 11 دسمبر 2023 کو سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر آرٹیکل 370 کے خاتمے کو درست قرار دیا تھا، جس نے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دی تھی۔ عدالت نے اس کے ساتھ یہ بھی حکم دیا تھا کہ اسمبلی انتخابات ستمبر 2024 تک کرائے جائیں اور ریاستی حیثیت جلد بحال کی جائے۔
گزشتہ سال ایک علیحدہ درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی تھی کہ ریاستی حیثیت بحال کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو دو ماہ کے اندر اقدامات کرنے کی ہدایت دی جائے۔
آپ کا تبصرہ